13 جولائی 2014 - 20:14
کیا امام حسن(ع) کی یقینا ۳۰۰ بیویاں تھیں؟ علم غیب رکھنے کے باوجود کیوں آپ نے جعدہ سے شادی کی؟

سبط اکبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر آیت اللہ یوسفی غروی کے ساتھ ابنا کے نمائندے نے امام علیہ السلام کی زندگی کے تاریخی پہلو اور آپ پر وارد شبہات کے سلسلے میں گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین حضرات کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔

ترجمہ: الف۔ع۔ جعفری
آیت اللہ شیخ محمد ہادی یوسفی غروی ۱۹۴۸ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور ۱۴ سال کی عمر میں حوزہ علمیہ نجف میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنے والد آیت اللہ میرزا محمود یوسفی غروی، امام خمینی، آیت اللہ خوئی، آیت اللہ سید محمد صادق حسینی روحانی اورآیت اللہ سید کاظم حسینی حائری کے پاس علم حاصل کیا۔
نجف اشرف میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قم میں آکر مسند تدریس پر بیٹھے اور ادبیات عرب، منطق، فقہ، اصول، تاریخ، تفسیر، علوم قرآن اور حدیث کی تدریس کے ساتھ ساتھ کئی کتابیں تالیف بھی کی جن میں سے ’’ التاریخ السلامی انسائکوپیڈیا‘‘ جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے معروف و مشہور ہے۔
آپ اتنی ساری مصروفیات کے باوجود بعض علمی و ثقافتی اداروں کے ساتھ تعاون رکھتے ہیں منجملہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن، حوزہ و دانشگاہ تحقیقی ادارے کے شعبہ تاریخ کے رکن، ملکی سطح پر محققین تاریخ کمیٹی کے رکن، حوزہ علمیہ قم میں شعبہ تاریخ اسلام کے رکن وغیرہ وغیرہ ہیں۔
سبط اکبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر موصوف کے ساتھ ابنا کے نمائندے نے امام علیہ السلام کی زندگی کے تاریخی پہلو اور آپ پر وارد شبہات کے سلسلے میں گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین حضرات کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
ابنا: امام حسن مجتبیٰ(ع) تمام مسلمانوں(شیعہ سنی) کے نزدیک ایک محبوب شخصیت کے حامل ہیں حالانکہ آپ کی زندگی میں مصائب اور مشکلات بھی بہت زیادہ نظر آتی ہیں۔ کیا یہ محبوبیت صدر اسلام میں بھی پائی جاتی تھی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام حسن مجتبیٰ(ع) کچھ خاص خصوصیات کے مالک ہیں منجملہ ایک تو آپ بنی اکرم(ص) کے بڑے نواسے، امیر المومنین(ع) اور فاطمہ زہرا(س) کے بڑے بیٹے ہیں۔ دوسرے یہ کہ آپ کی شخصیت کے بارے میں رسول اسلام(ص) کی متعدد حدیثیں موجود ہیں۔ لہذا مسلمان دو وجوہات کی بنا پر اس گھرانے کو محبوب رکھتے ہیں ایک اس اعتبار سے یہ گھرانہ یادگار پیغمبر(ص) ہے چونکہ اس گھرانے کے علاوہ پیغمبر اکرم (ص) کی کوئی اولاد باقی نہیں بچی تھی اور امامین حسنین(ع) پیغمبر(ص) کے نواسے ہونے کی وجہ سے تنہا رسول کی نشانیاں تھیں اور دوسری وجہ وہی پیغمبر اسلام کی احادیث ہیں جن میں ان کے بارے میں اتنی تاکید ہوئی ہے۔ ان احادیث کو عام طور پر فضائل و مناقب کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے گر چہ یہ احادیث عقیدتی اور کلامی دلالت بھی رکھتی ہیں مثال کے طور پر  «ان الحسن و الحسین سیدا شباب أهل الجنهًْ» اس طرح کی احادیث میں جو اہل سنت کی کتابوں جیسے تاریخ طبری اور تاریخ کامل ابن اثیر میں بھی نقل ہوئی ہیں اہم ترین دلالت، عقیدتی اور کلامی دلالت ہے۔ یعنی کیا ممکن ہے کہ کوئی جوانان جنت کا سردار ہو لیکن حق پر نہ ہو؟ اس فضیلت کا تعلق اسی دنیا سے ہے۔ خاص طور پر یہ نکتہ کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صرف عصر پیغمبر میں حق پر تھے بلکہ زندگی کے آخری لمحے تک حق پر تھے لہذا جب زندگی کے آخری لمحے تک حق پر تھے تو جو لوگ ان کے مقابلے میں اٹھے وہ یقینا باطل پر ہوں گے۔ لہذا اس حدیث کو بیان کرتے وقت اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے۔
امام حسن مجتبیٰ (ع) کی شخصیت کا اسلامی سماج میں محبوب ہونے کا ایک واضح اور آشکار نمونہ، امیر المومنین علی علیہ السلام کا اہل کوفہ سے ’’طلب مدد‘‘ کرنے کا واقعہ ہے۔
ابنا: ’’طلب مدد‘‘ کا واقعہ کیا ہے؟
خلیفہ سوم کے قتل کے بعد امیر شام معاویہ نے طلحہ و زبیر اور جناب عایشہ کو امیر المومنین(ع) کے مقابلے کے لیے بھڑکایا اور انہیں رنگین وعدے دے کر حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ کے لیے میدان میں اتار دیا ۔ اور آخر کار وہ تاریخ کے تلخ واقعات رونما ہوئے۔ طلحہ و زبیر مدینہ سے مکہ گئے اور مکہ میں عایشہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور اس کے بعد بصرہ جا کر جنگ جمل وجود میں لائی۔ امیر المومنین (ع) مدینہ میں تھے اور مدینہ اس دور میں کارآمد فوج سے خالی ہو چکا تھا اس لیے کہ عصر فتوحات میں جو لوگ سیاسی، علمی اور عسکری سوجھ بوجھ رکھتے تھے اصحاب پیغمبر ہونے کے عنوان سے مدینہ سے بکھر گئے تھے بعض امام جماعت، بعض معلم قرآن، بعض عسکری کمانڈر اور بعض سیاسی سرگرمیوں کے عنوان سے دوسرے علاقوں میں نکل گئے تھے۔ کارآمد آفراد جو تاریخ میں بیان ہوئے ہیں صرف ۷۰۰ جنگجو اور شمشیر زن تھے جو امیر المومنین کے ساتھ مدینہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن امیر المومنین (ع) اس کم تعداد کے ساتھ اصحاب جمل کے مقابلے میں نہیں جا سکتے تھے۔
خوب، امیرالمومنین(ع) کہ جنہیں ناصر و مددگار کی ضرورت ہے ایسے موقع پر کیا کریں؟ کہا جائیں؟ لہذا امیر المومنین(ع) نے راستے میں مختلف قبیلوں سے مدد طلب کرنا شروع کی قبیلہ بنی طی ( قبیلہ حاتم طائی) سے مدد مانگی۔ حاتم طائی جو پہلے مشرک تھے اور بعد میں اپنے اپنے بیٹے عدی بن حاتم طی کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ جب لشکر اسلام ان کے قبیلے کے پاس پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو بھاگ کر شام چلے گئے۔ ان کی بہن سفانہ بنت حاتم طائی کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا اور اسے مدینے پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر کیا پیغمبر اکرم نے حاتم طائی کی بیٹی کے عنوان سے اس کا احترام کیا۔ حتی نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی عبا اس کے لیے بچھا دی۔ پیغمبر اکرم (ص) کے اس کریمانہ اخلاق کو دیکھ کر وہ مسلمان ہو گئی۔ اور جب مسلمان ہوئی تو پیغمبر(ص) نے اسے آزاد کر دیا۔ جب وہ اپنے قبیلے میں واپس گئی اور اس کے بھائی عدی بن حاتم بھی شام سے واپس آئے اور جب اس نے پیغمبر اکرم(ص) کے اخلاق کی تعریف کی تو اس کا بھائی بھی اسلام کا گرویدہ ہو گیا۔ عدی بن حاتم مدینہ روانہ ہوا اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا۔ عدی نے جنگ جمل میں پیغمبر اکرم کی نسبت اپنی وفاداری کا اظہار کیا جب انہیں خبر ہوئی کہ امیر المومنین (ع) مدینے سے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں تو وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ آپ کے لشکر میں شامل ہو گیا۔
لیکن امیر المومنین پھر بھی اصحاب جمل کی کثیر تعداد کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اگر چہ آپ نے مدینہ کے ساتھیوں کے علاوہ راستے سے بھی افراد کو جمع کر لیا تھا۔ آخر کار امام مجبور ہوئے کہ کوفے سے بھی مدد کا مطالبہ کریں ہم نے ’’طلب مدد‘‘ کی بات کی اس واقعے کا تعلق یہاں پر ہے کہ امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر، عمار یاسر اور عبد اللہ بن عباس کو طلب مدد کے لئے کوفہ بھیجا لیکن جو اثر امام حسن علیہ السلام کو بھیجنے سے ہوا وہ کسی دوسرے سے نہیں ہوا۔
ابنا: اس دور میں اہل کوفہ کون لوگ تھے۔
اس دور میں اہل کوفہ یمن کے لوگ تھے زیادہ تر یمن کے قبیلہ حمدان سے تعلق رکھنے والے تھے جو امیر المومنین کے ہاتھوں مسلمان ہوئے تھے یعنی بعینہ یمن میں بھی وہی حالت پیش آئی جو آج کوفہ میں پیش آئی یمن میں بھی امیر المومنین سے پہلے رسول اسلام نے خالد بن ولید اور معاذ بن جبل کو بھیجا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی یمنیوں کو اسلام کی طرف جذب نہیں کر سکا تھا آخر کار امیر المومنین نے ان سب کو مسلمان بنایا تھا۔ امیرالمومنین نے آدھے دن میں یمن کے سب سے بڑے قبیلہ حمدان کو مسلمان بنا دیا تھا اور یہ سب سے بڑی اور پہلی فتح تھی جو بغیر لشکر کشی کے اسلام کو حاصل ہوئی۔ لہذا ان کے دلوں میں روز اول سے ہی اہلبیت(ع) مخصوصا امیر المومنین کی نسبت محبت راسخ تھی۔ جب اہل کوفہ کو خبر ملی کہ امام حسن (ع) ان کے پاس آئے ہیں تو وہ عجیب و غریب طریقے سے ان کے استقبال کے لیے گئے۔ ابن ابی الحدید نے جو اس واقعہ کی توصیف کی ہے وہ سننے اور سوچنے کے لائق ہے کہ کس طرح سے پورا کوفہ دروازہ کوفہ پر جمع ہو گیا تاکہ امام حسن مجتبیٰ کا استقبال کریں اور پہلی بار یارگار پیغمبر(ص) کی زیارت سے مشرف ہوں۔
لہذا امام حسن (ع) سماجی طور پر بہت محبوب تھے اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیوں امیر المومنین(ع) نے آخر میں امام حسن(ع) کا انتخاب کیا تو اس کا جواب واضح ہے کہ چونکہ امام حسن(ع) نواسہ رسول ہونے کی حیثیت سے سب کے یہاں محبوب تھے اور امیر المومنین نے انتہائی دقیق اور بجا فیصلہ کیا۔
امام حسن مجتبیٰ (ع) نے مسجد کوفہ میں ایک خطبہ دے کر تمام کوفیوں کو حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لیے آمادہ کر لیا۔ قابل غور بات یہاں ہے کہ وہ کوفہ جس سے مالک اشتر، عبد اللہ بن عباس اور عمار یاسر جیسے دس افراد کو بھی اپنے ساتھ نہ لے جا سکے اس کوفے کے تمام مردوں کو امام حسن (ع) نے اپنی طرف جذب کر لیا اور دس ہزار کا لشکر کوفہ سے لے کر امام کی نصرت کے لیے گئے۔ یہ امام حسن (ع) کی عالم اسلام کے اندر مقبولیت اور محبوبیت کا نتیجہ ہے۔


ابنا: اس محبوبیت کے باوجود عوام الناس کے اندر آپ کے سلسلے میں کچھ شبہات پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر یہ کہ امام حسن علیہ السلام کی ۳۰۰ بیویاں تھیں؟ برائے مہربانی اس حوالے سے بھی وضاحت کیجیے۔
امام حسن علیہ السلام کی متعدد بیویوں کا شبہہ بہت معروف اور پرانا شبہہ ہے اور کافی حد تک اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی طرف سے جو سبط نبی اکبر امام حسن مجتبیٰ (ع) کے بارے میں کانفرنس منعقد ہوئی اس میں بھی مقالات لکھنے کے لیے شبہات کا موضوع تھا اس میں امام حسن(ع) کی متعدد زوجات کے سلسلے میں بہت سارے عربی اور فارسی میں مقالے لکھے گئے اور انشاء اللہ چھپ کر منظر عام پر آئیں گے۔
مرحوم شہید محراب آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی تبریزی ماہ مبارک رمضان میں نجف اشرف میں مسجد شیخ انصاری میں تقریر کیا کرتے تھے آپ کی تقاریر کا یہ طریقہ تھا کہ دو دن ایک امام کے بارے میں گفتگو کرتے تھے آپ نے امام حسن علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ شبہہ بیان کیا اور کہا کہ سب سے پہلے جس شخص نے امام علیہ السلام کے لیے ۳۰۰ بیویوں کا تذکرہ کیا ہے وہ ابن عربی نامی ایک شخص ہے نہ وہ معروف محی الدین ابن عربی صاحب کتاب النصوص بلکہ چوتھی صدی کا رہنے والا ابن عربی نامی ایک شخص ہے جو بغداد میں رہتا تھا اور خود کو عارف اور صوفی سمجھتا تھا اور اس نے خود آخری عمر تک شادی نہیں کی اس نے بغداد کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے امام حسن مجتبیٰ (ع) پر سب سے پہلی بار یہ تہمت لگائی۔ جبکہ کوئی بھی تاریخی بات بیان کرنے کے لیے دو راستوں کا نقل کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بات قابل اعتبار ہو۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ اس بات کی سند بیان کی جائے کہ میں نے یہ بات فلاں سے سنی اس نے فلاں سے سنی تاکہ اس کے اصلی ماخذ تک پہنچ سکے اور اگر سند نہیں معلوم تو اس کا ماخذ بیان کرے کہ اس نے یہ بات کہاں سے بیان کی ہے۔ اگر کسی تاریخی بات کی نہ سند معلوم ہو اور نہ اس کا ماخذ تو وہ بات  قابل اعتماد نہیں ہوتی۔ ابن عربی کی یہ بات بھی ایسی ہے جس کی نہ سند بیان ہوئی ہے اور نہ ماخذ۔
دوسرا جواب اس شبہے کا یہ ہے کہ اگر امام حسن علیہ السلام کی حقیقت میں ۳۰۰ بیویاں تھی تو ان کے کچھ آثار بھی سامنے آنا چاہیے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، اس نگاہ سے اگر ائمہ میں دیکھا جائے کہ ازواج کے اعتبار سے سب سے زیادہ امام حسن (ع) کی بیویاں ہیں تو اولاد کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ اولاد امام حسن (ع) کی ہونا چاہیے جبکہ سب سے زیادہ اگر اولاد نقل ہوئی ہے تو امام موسی بن جعفر(ع) کی نقل ہوئی ہے کہ آپ کی ۳۰ سے ۴۰ تک اولاد تھی اور سب سے زیادہ سادات بھی موسوی سادات ہیں۔ لہذا یہ شبہہ اصلا سیرے سے ہی بے بنیاد ہے۔
ابنا: پس امام مجتبیٰ (ع) کی بیویوں اور اولاد کی حقیقی تعداد کتنی ہے؟
مورخین نے امام حسن مجتبیٰ(س) کی اولاد کو بالاتفاق ۱۵ سے زیادہ بیان نہیں کیا ہے۔ اور آپ کی ازواج کو بھی معتبر مورخین نے ۵ سے زیادہ بیان نہیں کیا۔ اگر ۳۰۰ بیویاں ہوتی تو کیوں صرف ۵ کے نام ہی بیان کرتے باقی والی بے نام کیوں رہ جاتیں؟ اس ماجرا کے آگے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ابنا: اس طرح کی جھوٹی باتیں بیان کرنے کا محرک کیا تھا؟
چوتھی صدی ہجری میں جو بنی عباس کا دور حکومت تھا علویوں مخصوصا سادات بنی الحسن نے بنی عباس کے خلاف بہت سارے قیام کئے۔ لہذا بنی عباس نے سادات حسنی کو بدنام کرنے کے لیے یہ سب چالیں چلیں اور ان کے جد امام حسن مجتبیٰ (ع) پر طرح طرح کی تہمتیں لگائیں۔ لہذا انہیں کہا جاتا تھا کہ تم لوگ بھی شہوت پرست ہو تم لوگ بھی پیسے اور اقتدار کے لالچی ہو!

ابنا: ایک اور شبہہ جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ کیوں امام حسن(ع) نے جعدہ نامی عورت سے شادی کی کہ جس نے بعد میں امام کو زہر دیا؟ کیا شادی کے لیے خاندانی پاکیزگی شرط نہیں ہے؟َ کیوں امیر المومنین (ع) نے ایسے گھرانے سے اپنے بیٹے کے لیے لڑکی کا انتخاب کیا جو اہلبیت(ع) کے دشمن تھا؟
جعدہ کا باپ اشعث بن قیس کندی تھا وہ اس کے علاوہ کہ جنگجو تھا اپنے قبیلہ کا سردار بھی تھا یا یوں کہوں کہ وہ علاوہ اس کے کہ قبیلے کا سردار تھا جنگجو بھی تھا۔ یہ شخص حیات پیغمبر (ص) کے آخری دنوں میں مدینے گیا اور مسلمان ہو گیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان اپنا مقام بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ لہذا اس نے بہر صورت خود کو پیغمبر سے منسوب کرنا چاہا۔ تاریخ طبری میں واضح لکھا ہے کہ اشعث بن قیس نے اپنی ۳۰ سالہ بہن کو پیغمبر اکرم کے عقد میں دیا۔ یہاں ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی عمر وفات کے وقت ساٹھ سال سے اوپر تھی یعنی جب آپ نے رحلت فرمائی تو آپ کی عمر ۶۳ سال تھی لہذا ایک آدمی ۶۳ سال کی عمر میں کیا محرک رکھتا ہے کہ جب اشعث بن قیس اپنی ۳۰ سالہ بہن انہیں دے تو وہ قبول کر لیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اخلاق حسنہ کی علامت ہے کہ جو بھی کوئی ہدیہ دیتا تھا آپ اسے قبول کرتے تھے۔ حتی کہ آپ کی طرف منسوب ایک جملے میں آیا ہے «لا یرد الاکرام الا الحمار» کہ گدھے کے علاوہ کوئی بھی تحفہ اور ہدیہ نہیں لوٹاتا ہے۔
لہذا یہ پیغمبر کا اخلاق ایسا تھا۔ خاص طور پر جب کوئی، عورت آپ کو ہدیہ دیتا تھا توآپ کبھی اس کو واپس نہیں لوٹاتے تھے۔ اس لیے کہ اگر پیغمبر قبول نہ کریں تو ہدیہ دینے والے کے لیے سماجی طور پر بہت ساری مشکلات وجود میں آتی تھی۔ اور میری نظر میں عورت کو قبول کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی تھی۔ حضرت ابوبکر نے جناب خدیجہ کی وفات کے بعد اپنی بیٹی عایشہ کو اس کم سنی میں ہدیہ دیا ابوبکر جو سات سال پیغمبر کے ساتھ رہ چکے تھے وہ اخلاق پیغمبر سے آشنا ہو چکے تھے لہذا انہوں نے اس فرصت سے استفادہ کیا اور اپنی بیٹی کو اٹھا کر انہیں دے دیا۔ حفصہ کے سلسلے میں خود اہل سنت نے نقل کیا ہے کہ حفصہ کا شوہر مسلمان ہونے کے بعد ایک جنگ میں شہید ہو گیا تھا۔ اور عمر اپنی بیٹی کو لے کر ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ تم اس کے ساتھ نکاح کر لو ابوبکر اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھے دونوں میں تو تو میں میں ہونے لگی عمر نے کہا تم نے میری توہین کر دی ہے حتی نقل ہوا ہے کہ یہ آیت «لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبی» اسی مناسبت سے نازل ہوئی۔ تو جب ابوبکر نے حفصہ کو قبول نہیں کیا اور عمر نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو پیغمبر اکرم(ص) نے ان کے درمیان صلح کروائی اور فرمایا: ’’ انشاء اللہ ابوبکر سے بہتر کوئی اسے قبول کر لے گا‘‘۔ اور یہ اشارہ اپنی طرف کیا۔
بعینہ یہی ماجرا کوفہ میں امیر المومنین (ع) کے ساتھ پیش آیا۔ امام حسن مجتبیٰ (س) نے کوفہ جانے سے پہلے شہربانو کی بہن ’’شاہ زنان‘‘ سے شادی کر رکھی تھی۔ کتاب عیون اخبار الرضا میں ہے کہ امیر المومنین (ع) اور حسنین(ع) جنگ جمل کے لیے بصرہ پہنچے اور ایک آدھ دن میں انہوں نے بصرہ کو فتح کر لیا اس کے بعد مدینے سے خبر پہنچی کہ امام حسنین (ع) کے بیویاں وضع حمل کے دوران دنیا سے رخصت ہو گئیں ہیں۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ امام حسین (ع) کی زوجہ اور امام زین العابدین(ع) کی والدہ شہربانو وضع حمل کے بعد دنیا سے رخصت ہوئیں لیکن امام حسن (ع) زوجہ ’’شاہ زنان‘‘ وضع حمل سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ادھر اشعث بن قیس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ جب اس نے اپنی بہن کو پیغمبر اکرم کے عقد میں دیا اور مدینے سے یمن واپس گیا تاکہ اپنی بہن کو تیار کر کے مدینہ لے جائے تو خبر پہنچی کہ پیغمبر دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ یہ خبر سنتے ہی مرتد ہو گیا اس کے بعد جب مسلمانوں نے اشعث پر لشکر کشی کی تو اس کی فوج کو تہس نہس کر دیا اور اسے گرفتار کر کے مدینہ لائے۔ خلیفہ اول نے یمنیوں کی نسبت اپنی مہربانی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اس مرتد پر شرعی حد جاری نہیں کی بلکہ اسے آزاد کر کے اپنی بہن اس کے عقد میں دے دی۔ تاریخ میں ہے کہ کوفے میں حضرت مسلم اور کربلا میں امام حسین(ع) کے ساتھ جن لوگوں نے جنگ کی ان میں اشعث کے وہ بیٹے بھی تھے جو حضرت ابوبکر کی بہن سے تھے۔
خلیفہ سوم نے اشعث بن قیس کو اپنا نمائندہ بنا کر آذربائجان بھیجا ہوا تھا۔ امیر المومنین(ع) جب جنگ صفین کی تیاریاں کر رہے تھے تو انہوں نے یمنی قبیلوں کو اپنی طرف جذب کرنے کی کوشش کی جبکہ ادھر معاویہ بھی اس کوشش میں تھا کہ انہیں اپنے لشکر میں شامل کرے۔ لہذا امیر المومنین(ع) نے اشعث کو بلوایا۔ اشعث نے اپنے قبیلے والوں کے ساتھ جلسہ کیا کہ وہ حضرت علی (ع) کی طرف جائیں گے یا معاویہ کی طرف؟ عراق کے ساتھ رہیں گے یا شام کے ساتھ؟ ان میں سے ایک گروہ جن کے دلوں میں محبت اہلبیت تھی اور امیر المومنین سے لگاو رکھتے تھے اشعث کے مد مقابل آ گئے اشعث سمجھ گیا کہ وہ اپنے قبیلے کے درمیان معاویہ کو حضرت علی (ع) پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ لہذا وہ مجبور ہوا کہ کوفہ جائے لیکن وہ اندر اندر سے ابھی بھی مرتد تھا اور پیغمبر اور خاندان پیغمبر کی نسبت اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں تھی۔
کوفہ میں اشعث کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا لہذا وہ اس تلاش میں تھا کہ کوفہ میں کسی نہ کسی طرح سے اپنی حیثیت قائم کرے۔ یہ بات سبط ابن الجوزی متوفیٰ ۶۶۵ کی کتاب تذکرۃ الخواص میں نقل ہوئی ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے کوفہ کے ایک بزرگ اور محترم شخص سے امام حسن (ع) کے لیے رشتہ مانگا۔ اسی دوران اشعث کوفہ پہنچا اور از قضا  اس شخص کی اشعچ سے ملاقات ہوئی اس نے حالات کے بارے میں پرس و جو کی تو اس نے بھی یا سادہ لوحی یا اپنی منزلت بیان کرنے کی غرض سے اشعث سے کہہ دیا کہ امیر المومنین نے ہماری لڑکی کا رشتہ مانگا ہے اشعث بن قیس اتنی بات سنتے ہی فورا امیر المومنین کے پاس پہنچا اور گلے و شکوے کرنے لگا کہ ہمارے اندر اتنے کون سے عیب ہیں کہ آپ نے فلاں کے گھر رشتہ بھجوایا ہے؟ در حقیقت اس نے دبھے الفاظ میں اپنی لڑکی کو امام حسن (ع) کے لیے امیر المومنین کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا۔ امیر المومنین (ع) نے بھی اخلاق پیغمبر(ص) کی پیروی کرتے ہوئے اسے قبول کر لیا تاکہ اس کے توہین نہ ہو۔

ابنا: سوال یہ ہے کہ کیوں امیرالمومنین (ع) اور امام حسن(ع) نے علم غیب سے کام نہیں لیا؟
ائمہ اطہار(ع) مامور نہیں ہیں کہ علم غیب پر عمل کریں بلکہ انہیں امر دیا گیا ہے کہ وہ ظاہری طور پر عمل کریں۔ حتی قرآن کریم میں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) کو حکم دیا: «قل وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ»  یہ آیت در حقیقت یہ سمجھانا چاہتی ہے کہ اگر یہ طے ہو کہ علم غیب پر عمل کریں اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ علم غیب کا دائرہ حدود کہاں تک ہے؟ کیا علم غیب کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ تمام جزئیات کو بھی شامل ہے یا اس کی کوئی حدود ہیں؟ اس بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر فرض کرلیں کہ علم غیب کا دائرہ وسیع ہے اور ان موارد کو بھی شامل ہوتا ہے، لیکن آیت کا یہ حکم ہے کہ آپ کو صرف ظاہری امور کے مطابق علم کرنےکا حق حاصل ہے۔ خدا نے پیغمبر اکرم کی زبان سے کہلوایا اگر یہ طے ہو کہ علم غیب پر عمل کرنا ہے تو جو کچھ خیر تھا اسے میں اپنی طرف جذب کر لیتا اور مثلا جو کچھ شر تھا اسے اپنے سے دور کر دیتا اور جنگ احد میں میں تلواروں کے ۷۰ وار نہ کھاتا۔ لہذا ضروری نہیں ہے ائمہ اطہار(ع) علم غیب پر عمل کریں۔
ان باتوں سے صرف نظر، اس طرح کے تمام سوالوں کا ایک کلی جواب بھی دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مثلا اشعث بن قیس جیسوں کی اگر چہ ان کی عمر کے آخری سالوں میں ظاہر ہوئیں لیکن ابھی تو ان سے بظاہر یہ برائیاں سامنے نہیں آئی ہیں۔
جعدہ کے یہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا اور امام حسن علیہ السلام نے دوسری شادیاں کر لیں اور ان سے ان کو اولاد ہوئی۔ لہذا معاویہ نے بھی اپنی چالاکی کا استعمال کرتے ہوئے اشعث کا ایمان بھانپا اور اسے لالچ دینا شروع کر دی۔ حتی تاریخ میں ہے کہ امیر المومنین اور حجر بن عدی کے قتل میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔
لہذا اس شخص کو معاویہ نے اچھے سے پہچان لیا تھا اصلا وہ شخص جس نے قرآن کریم کو نیزے پر لٹکانے کا نقشہ دیا کون تھا؟ یہی اشعث تھا اگر اشعث نہ ہوتا تو معاویہ کی مکاری بالکل کامیاب نہ ہوتی۔ اور اس کے علاوہ معاویہ نے اپنے دوسرے عامل کے ذریعے کہ جو مدینے میں ہے مروان بن حکم کہ جو خود بے حد اہل بیت کی دشمنی دل میں رکھتا ہے اور خلیفہ سوم کا داماد ہے اور جنگ جمل میں امیر المومنین پر تلوار چلاتا ہے جس کے دل میں کبھی بھی امیر المومنین اور اہل بیت کی محبت نہیں آئی، اس نے جعدہ کو یہ کام کرنے پر اکسایا اس نے ان وعدوں کے ذریعے جو معاویہ نے اسے دئے تھے امام حسن علیہ السلام کو زہر دلوایا اور شہید کروایا۔ یعنی امام حسن علیہ السلام کی شہادت بظاہر جعدہ کے ہاتھوں لیکن باطنا مروان اور معاویہ کے ہاتھوں ہوئی جس کا کوئی بھی مورخ انکار نہیں کرتا۔ اور یہ تقریبا ایک متفق علیہ امر ہے۔ مگر ابن تیمیہ جیسے کچھ متعصب لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔
ابنا: بہت بہت شکریہ جو آپ نے ہمیں وقت دیا۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲